موجودہ تعلیمی نظام اور بڑھتی ہو ئی جا ہلیت

(محمد فراز احمد,نظام آباد)
دورحاضر میں انسان نے علمی ہتھیار حاصل کرلیا مگر اس کی سمجھ سے پرے چلتا جارہاہے. اس میں شک نہیں کہ سائنسی علوم کے بطن سے برآمد شدہ مختلف ٹکنالوجیوں کے ساتھ انفارمئشن ٹکنالوجی نے بھی دنیا میں علمی دھماکہ پیدا کردیا ہے جس میں روایتی تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ فاصلاتی Distance اور آن لائن طریقہ تعلیم بھی بمتعارف ہو گیا.جسکا سبب ہیکہ آج دنیا میں ایک خاموش تعلیمی انقلاب برپا ہوگیا اور مادی و معاشی خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگیا. آج دنیا میں اناج کا اتنا بڑا انبار کھڑا ہوگیا کہ مفت میں اناج کی تقسیم حکومت کی طرف
سے ہو سکتی ہے, مہلک امراض کی ادویہ اور کپڑوں کا پہاڑ کھڑا ہو چکا ہے , لیکن ذرا غور کرئیے کہ آج بھی اس نام نہاد خوشحالی کے پیچھے کروڑوں افراد بھوک مری اور بیماریوں کا شکار یا تو موت کا انتظار کررہے ہیں یا جنگلی جانوروں کی غذا بن رہے ہیں.امریکہ کو دنیاکا خوشحال ترین ملک مانا جاتا ہے لیکن تقریبا 35 کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں 10 فیصدی آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہیں علاواں ازیں دنیا کے دیگر ممالک میں حالات اس سے ذیادہ سنگین ہیں . ان سب پر عالمی لوٹ کھسوٹ , کرپشن اور گھوٹالوں کی بہار الگ. دنیا میں ایسے چند افراد موجود ہیں جنکی کمائی چند چھوٹے ممالک کی خریداری کر سکتی ہیں لیکن پھر بھی غربت کا یہ دور دورہ ہے جس میں قران مجید کی یہ آیت غور و فکر کا مرکز و مبداء ہے "اللہ تبارک و تعالیٰ سود کا مٹھ ماردیتا ہے اور صدقات کو نشوونما دیتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے , بدعمل کو پسند نہیں کرتا”(البقرہ:216). مزید یہ کہ ٹکنالوجی اور تعلیمی آسانی کے اس دور میں بھی خواتین کی عزت و عصمت کا بھی برا حال ہے ایسا لگتا ہے کہ دنیا اس تعلیمی انقلاب کی زد میں آکر دنیا پڑھ لکھ کر بھی پھر سے دور جاہلیت کی طرف لوٹ آئی یا پھر اس سے بھی پرے چلی گئی. ایک طرف بچیاں ماں کی کوکھ میں مار دی جا دہی ہیں تو دوسری طرف عورتوں کی کوکھ کو کرایہ پر لے کر بے اولادی کا غم غلط کرنے کی کوشش ہو رہی ہے. انسانی اعضا کی چوری کے لئے اغوا کا چلن عام ہوگیا ہے. شراب کا اس قدر دوردورہ ہیکہ ایک طرف مختلف ناموں سے عطیہ کے طور پر شراب پیش کی جارہی ہے تو دوسری طرف کھلے عام لائسینس سے شراب کی منڈیاں چل رہی ہیں.کیا اب بھی اس معلوماتی و علمی بہار کو پھر اس آیت کریمہ سے جوڑنے کا وقت نہیں آیا ہے.”پڑھو(اے نبیؐ) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا جمے ہو ئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی, پڑھو اور تمہارا رب کریم ہے. جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا. انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا”(العلق:1-5).لہٰذا اس لمحہ فکر اور دعوت فکر پر غور کرئیے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں دنیا کو اس بحران سے بچانے کی کوشش کریں.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.