ستم کا آشنا تھا وہ سبھی کے دل دکھا گیا

محمد فراز احمد
’’ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا‘‘
ہمارے ذہنوں میں عام طور پر یومِ پیدائش کے لفظ کے ساتھ سوائے جشن، کھانا پینا، پارٹی یا اس جیسے ہی کوئی خرافات اورلغویات کی تصویر بنتی ہے لیکن ہم کبھی کسی چیز کو مثبت سمت میں نہیں سونچتے اور نہ ہی کسی بھی چیز کا مثبت پہلو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں ، اسی لئے ہمیں چاہئے کہ ہرشرمیں خیر کا پہلو تلاش کریں اور اس سے سبق حاصل کرنے یا نصیحت اوراپنے لئے تربیتی سامان اکٹھا کرنے کی کوشش کریں جس سے ہماری بھی تربیت ہوگی، مثبت سونچ پروان چڑھے گی اور دوسروں کو بھی کچھ سیکھنے کا موقع فراہم ہوگا۔
      ۲۵ ستمبر 1903 کا روز تھا اور دنیا میں ایک مجددِ دین اور مفکر اسلام نے اپنی آنکھیں کھولی ، مولانا سید ابولاعلی مودودیؒ کی یوم پیدائش پر اپنے خیالات کو تحریر کرنا ایسا نہیں کہ ہم انکا میلاد منارہے ہیں بلکہ یہ یوم پیدائش درحقیقت انکی زندگی, کارناموں اور دینِ اسلام کے تئیں انکی قربانیوں کو یاد کرنے کا دن ہے۔ اس روز ہم انکی یادوں ، افکار اور تحریک اسلامی کے قیام کے مقصد کو پھر سے تازہ کریں اور اپنی زندگیوں کو اس کار میں قربان کرنے کا پختہ عزم کریں تاکہ دنیا میں بھی اس دین اسلام کی سربلندی کے ذریعہ اپنی سرخ روئی کا سامان کریں اور آخرت میں تو یہ یقینی ہے کہ اللہ کی اعلیٰ جنتوں میں مقام حاصل ہوگا۔انشاءاللہ۔
      یقیناًمولانا مودودیؒ کی سونچ اور افکار تمام کے لئے ایک قیمتی سرمایا ہے جس کو ہمیشہ ساتھ لئے دین حق کی سربلندی میں مستقل مزاجی کے ساتھ اپنا تعاون کریں۔ اور ہمیشہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ تحریک اسلامی کی راہ میں ہماری غیر موجودگی اس کام میں زرہ برابر بھی بگاڑ یا نقصان پیدا نہیں کرسکتی بلکہ ہمارے مقابلے میں اللہ دوسرے افراد کو مبعوث فرمائیگا جو اس کے دین کی سربلندی کے لئے ہم سے اچھا کام کر دکھائےگا، یہ تو ہمارا انفرادی فائدہ اس میں ہیکہ اس سے منسلک ہوکرہم اپنی دنیا اورآخرت سنوار سکتے ہیں.
’’میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
میں اسی لئے مسلمان ، میں اسی لئے نمازی ‘‘
     یوں تو مولانا مودودی نے ایسے ایسے کارنامے انجام دئیے کہ ان کی شخصیت کو قلمبند کرنا سورج کو روشنی دکھانے کے مماثل ہے، لیکن ان کی یاد دلوں میں تاحیات باقی رہے گی. احمد فراز کا یہ شعر اس درد کو بیاں کرتا ہے جو ہمارے دلوں میں موجود ہے.
ستم کا آشنا تھا وہ سبھی کے دل دکھا گیا
کہ شام غم تو کاٹ لی سحر ہوئی چلا گیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.