تاج محل – محبت کی نشانی سے نفرت کا کھلونا

چند روز قبل ایک خبر آئی کہ یوپی کی بھگوا سرکار نے اپنی ٹورزم گائیڈ (سیاحتی کتابچہ) میں دنیا کے ساتویں عجوبے "تاج محل” کو شامل نہیں کیا جس کے بعد سے ملکی اور وفاقی میڈیا میں یہ خبر زیر بحث ہے ساتھ ہی سماجی رابطے کی سائٹس پر بھی تبصرے جاری ہے.

   اس سے قبل یوپی کے وزیراعلٰی یوگی آدریہ ناتھ نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ "تاج محل بھارتی ثقافت کی عکاسی نہیں کرتا”. کثرت میں وحدت والے اس ملک میں ایک ریاست کے وزیراعلٰی کی جانب سے اس طرح کا بیان آنا واضح کرتا ہے کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی بقا خطرے میں ہے، علاوہ ازیں غیر ملکی میڈیا نے بھی اس واقعہ پر سوال کیا کہ "تاج محل کو نظر انداز کرنے کا سبب یہ ہے کہ اس کا معمار مسلمان ہے؟”.

      اس گائیڈ کے منظر عام پر آنے کے بعد سے مخالف جماعتوں نے یوگی سرکار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے. کانگریس کے لیڈر ابھیشیک مانو سنگھوی نے کہا کل "یہ ایک واضح مذہبی تعصب ہے جو کل سراسر غلط ہے”. مزید کہا کہ "اگر یہ سیاحت پر کتابچہ ہے اور اس میں تاج محل کو شامل نہیں کیاگیا تو ایک طرف یہ مذاق ہے تو دوسری طرف یہ ایک المیہ ہے”.

    یہ بات تو طئے تھی کہ جس طرح سے بھگوا سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلمانوں کے نام پر موجود سڑکوں کے نام تبدیل کئے گئے اور مسلمانوں کی تعمیر کردہ عمارتوں پر سوال اٹھائے گئے اسی طرح ایک دن تاج محل کو بھی یہ لوگ اپنی بھگوا ذہنیت کا شکار بنائیں گے اور یہ کوئی تعجب خیز بات نہی ہے، مزید چیزیں ابھی دیکھنی باقی ہے اور یقیناً الیکشن کے قریب تک ایسے واقعات جاری رہیں گے کیونکہ بی جے پی کے پاس فی الوقت کوئی ایسا موضوع نہیں ہے جس کے ذریعے سے وہ پھر سے اقتدار میں آنے کا خواب دیکھ سکے. ملک کی معیشت بالکل تباہ ہوچکی ہے جس کا اعتراف خود ان کی پارٹی کے بڑے بڑے لیڈروں نے کیا ہے.

     سوال یہ ہےکہ کیا ابھی بھی ملک کی عوام بیدار ہوئی ہے یا نہیں؟ کئی ایسے لوگ ہیں جنھوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا لیکن اب وہ اس پر پچھتا رہے ہیں لیکن ان کے بالمقابل کئی ایسے دلال ابھی موجود ہیں جو ملک کے ڈوبتا دیکھ کر بھی سوشل میڈیا اور نیوز چینلز کے ذریعہ سے سنگھ کی تشہیر اور تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں. میڈیا کا اصل کام حکومت سے سوال کرنا ہوتا ہے نا کہ اپوزیشن سے اور عوام سے،لیکن آج کی یہ گودی میڈیا حکومت سے سوال کرنے کے بجائے حکومتی اسکامز کی پردہ پوشی کررہی ہے اور ہندو مسلم بحث کے ذریعہ سے عوام کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹا رہی ہے. اس وقت ہندوستانی عوام کو چاہیے کہ وہ غیر جانبدارانہ طور پر ملک کے حالات کا جائزہ لیں اس کے بعد غور فکر کے ذریعہ ایک نتیجہ پر پہچیں تاکہ میڈیا کے ان پروپیگنڈوں کی زد میں آنے سے بچ جائیں.

   از: محمد فراز احمد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.