مودی حکومت…! انسانیت شرمسار

قومی دارلحکومت نئی دہلی سے تقریباً 30 کلومیٹر دور اتر پردیش کے ضلع گوتم بدھا نگر کے موضع دادری میں بیف کے نام پر تشددت نے نہ صرف ہندوستانیت بلکہ انسانیت کو بھی شرمسار اور ریزہ ریزہ کردیا. ایک بے قصور ضعیف 50 سالہ شہری جسے جھوٹے الزام اور زعفرانی ذہنیت کے اشتعال کا شکار بنایا جاتا ہے. مقامی مندر سے افواہ پھیلتی ہیکہ گاؤں میں گائے کے بچھڑے کو ذبح کیا گیا ہے

جس پر برہم عوام بلا جانچ اور قانون کو بالائے طاق ڈال کر تقریباً 200 افراد کا ہجوم اس مسلم گھجس پر برہم عوام بلا جانچ اور قانون کو بالائے طاق ڈال کر تقریباً 200 افراد کا ہجوم اس مسلم گھر کی طرف ہاتھوں میں لاٹھی, درانتی , بھالے وغیرہ لئے دوڑتا ہے اورگھر سے ایک ضعیف کو گھسیٹتے ہو ئے باہر نکالتے ہیں اس بوڑھے کی عمر کا بھی لحاظ نہیں کیا جاتا اور قتل کر دیا جاتا ہے اس کا بیٹا بچانے کی خاطر دوڑتا ہے تو اسے بھی بری طرح زخمی کردیا جاتا ہے. یہی انسانیت ہے? کہا جارہی ہے ملک کی انسانیت? اس معاملہ میں جہاں افواہ پھیلانے والوں کا ہاتھ ہےتو وہیں ان حکمرانوں کا بھی ہاتھ ہے جنھوں نے بیف کٹائی کے تعلق سے لوگوں کے ذہنوں میں انتہا پسندی اور نفرت بھردی ہے.پولیس اس پورے معاملہ میں خاموش تماشائی بنی ہے اس واردات میں تقریباً 200 افراد ملوث تھے لیکن پولیس صرف 10 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرتی ہے اور اس میں سے 6 کی عمر تو صرف 14 سال کی ہے پولیس نے پہلے سے ہی اس معاملہ کو ایک رخی بناکر اپنے ہاتھ صاف کر لینا چاہتی ہے تو دوسری طرف حکومت نے بھی محض 10 لاکھ کا ایکس گریشیا کا اعلان کر کے اپنی ذمہ داری سے بے رخی اختیا کر لی . اسکے علاوہ مہیش شرما (مرکزی وزیر) جنکے پارلیمانی حلقہ کے تحت یہ موضوع آتا ہے ان کا بیان آتا ہیکہ یہ "عمل کا رد عمل ہے” آخر یہ لوگ ہندوستان کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں? یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے ایسے کئی دیگر واقعات چند دنوں میں رونما ہو ئے.جس دن یہ واقعہ پیش آیا اسی دن بہار کے ایک علاقہ میں شر پسند ہجوم نے ایک شخص کو پاکستانی بتا کر مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا جسکی شناخت ہنوز نہ ہو سکی , اس واقعہ میں بھی پو لیس نے مشتبہ کردار ادا کیا. جسم کی جانچ کے بعد اس شخص کے مسلمان ہو نے کا ثبوت ملا.اقوام متحدہ جو انسانی حقوق کے تحفظ کی بات کرتا ہے اور اس ادارے میں ہندوستان کے نمائندے کی حیثیت سے وزیر اعظم نریندرمودی بھی شریک ہو تے ہیں, لیکن افسوس کہ ملک میں اقلیتوں پر ہو ئے مظالم و بربریت پر کو ئی آواز نہیں اٹھاتے. دادری میں پیش آئے اس افسوسناک واقعہ پر وزیر اعظم کو خود بیان دینے کی ضرورت ہے لیکن انکی خاموشی ظاہر کرتی ہیکہ وہ نفرت کی پالیسی اختیار کئے ہو ئے ہیں. وزیر اعظم نے لال قلعہ سے جس ” ٹیم انڈیا ” کا اعلان کیا تھا اس کا خواب چکنا چور ہوتا نظر آرہا ہے , اس ملک میں مخصوص مزہبی رہنمائی چلائی جا رہی ہے جو کہ اس ٹیم انڈیا کا ثبوت نہیں ہے کیو نکہ ٹیم انڈیا میں جہاں کپتانی و بیاٹنگ کے ماہر دھونی ہے تو وہیں بولنگ کے ماہر محمد سمیع اور ظہیر خان بھی ہے. وزیر اعظم کو چاہیئے کہ جہاں وہ اقوام متحدہ میں اپنی رکنیت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں وہیں ملک میں برپا ہو نے والے تعصبات و فرقہ واریت کے خلاف اپنی زبان کو حرکت دیں اور ٹیم انڈیا کو مستحکم بنائے.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.