میڈیا کا دوغلہ پن

جب ہم فلم دیکھتے ہیں تب اس میں کوئی حادثہ واقع ہوتا ہے جیسے کوئی بم دھماکہ, کسی ملک پر آتنگی حملہ وغیرہ تو نیوز چینلس پر سرخیاں بتائی جاتی ہے ہر مقام کی رپورٹ آتی ہے اور عوام اس خبر سے آگاہ ہوجاتی ہے (فلمیں خیالی ہوتی ہیں محض مثال کے طور پر استعمال کیا گیا۔ )
لیکن حقیقی زندگی میں جب ہم دیکھتے ہیں تو سب کچھ اس کے مختلف ہوتا ہے,  میڈیا میں وہی کچھ دکھتا ہے جس میں میڈیا کا مفاد ہو, اُن ہی پر سے پردہ فاش (نام نہاد)  کیا جاتا ہے جس سے میڈیا کی جیب گرم ہوتی ہو,  کسی بھی حملہ کہ بعد کسی بھی معصوم مسلمان کی تصویر بار بار دکھائی جاتی ہے اور یہ باور کرایا جاتا ہیکہ عدلیہ سے ثابت ہوگیا ہیکہ یہی فرد دہشت گر د ہے, ہمیشہ ایک نئی تنظیم جسکا نام اردو یا عربی میں ہوتا ہے سامنے آجاتی ہے, کبھی کسی تنظیم کا سربراہ سامنے نہیں آتا, کبھی یہ نام نہاد مسلم دہشت گرد تنظیم کسی غیر مسلم کو قتل نہیں کرتی, قتل کرتی بھی ہے تو مسلمانوں کو ہی قتل کرتی ہے, ہاں یہ بھی حقیقت ہیکہ کچھ معصوم غیر مسلم ان حملوں کی زد میں آجاتے ہیں , کبھی ان تنظیموں کی خفیہ نشستوں کی خبر جال کی طرح بُنے ہوئے میڈیا تک نہیں پہنچتی, کبھی انکا جسم نظر نہیں آتا محض خیالی پلاؤ ایسا بنادیا جاتا ہےکہ اخلاق جیسے مقتول کو قاتل قراردیا جاتاہے یعنی مقتول کے ہاتھ میں ہی قاتل کا خنجر چڑھادیا جاتا ہے, ملالہ یوسف زئی کو امن کا پیمبر قراردیا جاتا ہے اور عشرت جہاں، ذاکر نائک کو دہشت گرد بتادیا جاتا ہے, چمچہ گری کرنے والے ارنب گوسوامی جیسے افراد قوم پرست اور حقیقتوں سے پردہ فاش کرنے والے رویش کمار جیسے افراد قوم دشمن.
یہ ایسی سازشیں ہیں جن سے عوام واقف ہے لیکن تب بھی امریکہ کی تائید کرتی ہیں اور ترکی کی مخالفت, حقیقت تو یہ ہیکہ آج ساری دنیا میڈیا کہ اشاروں پر رقص کررہی ہے وہ بھی شیرخومے کے مزے سے اور پِس رہے ہیں تو صرف اورصرف انصاف پسند, حق گو, امن پسند افراد چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم , ضرورت اس بات کی ہےکہ کیرالہ کی طرح ہمیں بھی میڈیا وَن کی کمی کو پورا کرنا ہوگا اور گوسوامی جیسے غداروں کے مد مقابل اُٹھ کھڑا ہونا ہوگا تب تک آپ حقیقت کو پیش نہیں کرسکتے, سوشل میڈیا کو عوام بیداری کے طور پر استعمال کرنا ہوگا تاکہ ملک و بیرون ملک کے سیکولر افراد تک دہشت گردی کی ساکھ کو واضح کرسکیں لیکن جو شدت پسند ہیں انکے لئے تو "لکم دینکم ولیدین” ہی کہا جاسکتا ہے.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.