یومِ تاسیس – یوم تجدید عہد

سال بھر میں ہر دن کئی انسانوں کا جنم دن اور کئ اداروں کا یوم تاسیس آتا ہے اور ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں اس کو مناتے ہیں. مختلف نظریات کے افراد اپنے اپنے ڈھنگ سے جشن مناتے ہیں لیکن ایس آئی او کے لئے اس کا یوم تاسیس جشن کی غرض سے نہی ہوتا ہے بلکہ یہ تو دراصل ایک تجدید عہد کا دن ہوتا ہے جس میں اس عہد کو یاد کیا جاتا ہے جس کے اقرار کے ذریعہ سے ہم اس کا حصہ بنے ہیں.یہ نہ صرف یوم تجدید عہد ہے بلکہ یہ ایک یوم اظہار تشکر اور یوم احتساب بھی ہے.

یوم تشکر اس حیثیت سے کہ اس عظیم تنظیم کا حصہ بن کر اپنی زندگیوں کو صراط مستقیم کی طرف لےجانا اور اس راہ میں انتھک جدوجہد کے ذریعہ سے دونوں جہانوں کی کامیابی کا ذریعہ بننا دراصل اس تنظیم کی دین ہے. اس پر اللہ رب العزت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور ساتھ ہی ان رہنماؤں کا بھی جنھوں نے اپنے علم و بصیرت سے ایسے کاروانِ حق کی بنیاد ڈالی. اللہ ان کے درجات کو بلند فرمائے آمین.

یوم احتساب اس حیثیت سے کہ اس تنظیم سے وابستگی کے اتنے سال بعد ہم نے کہاں تک بحیثیت رکن اپنی ذمہ داری کو ادا کیا ہے، یہ بات بھی ذہن میں ہونی چاہیئے کہ تنظیم کا رکن ہونا بذات خود ایک ذمہ داری ہے جس کو ادا کرنا ہم سب پر فرض ہے ورنہ اس کی جوابدہی ہمکو روز آخرت کرنی ہے جس میں ناکامی سب سے بڑی ناکامی ہے. اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم سب اپنا ذاتی احتساب کریں ساتھ ہی اجتماعی احتساب بھی کریں، جس میں اس بات پر غور کریں کہ آیا ہم نے اس تنظیم کے مقاصد کے حصول میں کتنی کامیابی حاصل کی ہے.

ایس آئی او جس مقصد کے لیے قائم کی گئی وہ واضح ہے اور ہر کوئی اس سے واقف ہے. سماج کی تشکیل نو کا جو بیڑا ایس آئی او نے اٹھایا ہے اس کا طریقہ کار بھی عیاں ہے اور وہ ہے الہی ہدایات، اور یہ وہی طریقہ ہے جس کہ ذریعہ سے اللہ کے نبی صلعم نے مکہ کی سرزمین پر اسلام کا پرچم سربلند کیا تھا. اسی کے اختیار کرنے سے کامیابی کا حصول ممکن ہے. اب اگر کوئی کہے کہ الہی ہدایات کی ذریعہ سے طلباء و نوجوانوں کو تیار کرنے پر بھی کوئی نمایاں تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی تو اس میں دو باتیں ہو سکتی ہے. ایک یہ کہ یا تو دیکھنے والوں کی آنکھوں میں ہی کھوٹ ہے جس کی وجہ سے وہ ان تبدیلیوں کو دیکھنے سے خاصر ہے. دوسرا یہ کہ وہ جس تنظیم کو دیکھ رہا یے وہ سراسر الٰہی ہدایات کے مطابق نہیں ہے. یہ بات سرے سے ممکن ہی نہیں کہ ایک جماعت الٰہی ہدایات کے مطابق بھی ہو اور اس سے کوئی تبدیلی بھی نظر نہ آئے.

یومِ تاسیس کے موقع پر ہم تمام کو اوّل تو چاہیے کہ ہم معاشرے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر موجود خامیوں کی نشاندہی کریں اور ان کو خوبیوں میں تبدیل کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہوجائیں. ثانیاً یہ کہ اپنی صلاحیتوں کی نشاندہی کریں اور ان میں مہارت حاصل کریں تاکہ ہماری صلاحیتوں کے ذریعہ سے تنظیم کو فائدہ پہنچے. سوّم یہ کہ ممبران کے آپسی تعلقات کو استوار کریں. اس کے علاوہ اللہ بزرگ و برتر سے ہمیشہ تنظیم کے حق میں دعا کرتے رہیں. اللہ سے دعا ہیکہ اللہ اس تنظیم کو وسعت عطا فرمائے، اس کے قائم کرنے کے مقصد کے حصول میں آسانیاں پیدا فرمائے اور تمام وابستگان تنظیم کے دل اخلاص سے منور کردے اور اس تنظیم کو ہمارے لئے جنت کے حصول کا ذریعہ بنائے. آمین

محمد فراز احمد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.