تبلیغی جماعت کے بعد اب جماعت اسلامی نشانے پر

تبلیغی جماعت کے بعد اب جماعت اسلامی کی تصویر خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے گو کہ دونوں جماعتوں میں فکری اور تنظیمی اعتبار سے بہت فرق ہے لیکن دونوں جماعتیں ملک کی سب سے بڑی جماعتیں ہیں اور اپنا ایک بڑا حلقہ اثر رکھتی ہیں.

گزشتہ دنوں دیوبند سے تبلیغی جماعت کے متعلق بھی خبریں موصول ہوئیں جس پر کسی نے غلو سے کام لیا، کسی نے معتدل بات رکھی، لیکن نقصان یہ ہوا کہ کئی لوگ ایسی خبروں سے تبلیغی جماعت سے بدظن ہوگئے جو کہ پہلے کچھ نرم گوشہ رکھتے تھے اور ابھی بھی جماعت اسلامی کے متعلق یہ باتیں سوشل میڈیا کے ذریعہ سے پھیلائی جارہی ہیں. اس کے پیچھے اصل مقصد یہی ہے کہ ملک کی ان سب سے بڑی جماعتوں کا اثر و رسوخ کم کردیا جائے اور امت کی متحدہ آواز کو دبا دیا جائے.

یہ بھی حقیقت ہے کہ ان جماعتوں میں کچھ اختلافات موجود ہیں جس سے کنارہ کشی صحیح نہیں ہے. جماعتوں کے اندرونی معاملات میں اگر کسی بھی قسم کی نا اتفاقی پیدا ہوجاتی ہے تو یہ کوئی کہرام مچادینے والی بات نہیں ہے کیونکہ یہ جماعتیں فرشتوں کی جماعتیں نہیں ہیں کہ غلطیاں سرے سے سرزد ہی نہ ہوں. یہ تو انسانوں کی جماعتیں ہیں اور انسان تو بنا ہی نسیان سے ہے جس سے غلطی اور اختلاف لازمی ہے. لیکن ان معاملات کو سوشل میڈیا پر گفت و شنید کا مرکز بنانا اور چہ مو گوئیاں کرنا انتہائی غیر اخلاقی امر ہے.

ان معاملات اور ایسے حالات میں قائدین کی ذمہ داری دوگنی ہوجاتی ہے، ایک تو یہ کہ وہ تنظیمی امور کی نگرانی کریں ساتھ ہی ایسے واقعات کا سخت نوٹس لیں اور ان کو حل کرنے کی مکمل کوشش کریں. اگر ایسے حالات میں قائدین کنارہ کشی اختیار کرلیں گے تب یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے. اس لئے جماعت اسلامی کے مرکزی قائدین کو چاہیے کہ وہ ان معاملات کا جائزہ لیں اور تحریک کو کسی بھی قسم کے انتشار سے بچانے کی کوشش کریں.

ان تمام واقعات سے پرے اہم کام جو ارکان و کارکنان کو کرنا ہے وہ یہ کہ تمام لوگ اپنے باہمی تعلقات کو مضبوط بنائیں اور اس کارخیر میں ایک دوسرے کا وسیع القلبی کے ساتھ تعاون کریں. مولانا مودودی نے تحریک اسلامی کے لئے جن مہلک خطرات سے آگاہ کیا ہے ان کا مطالعہ کریں، ان کو سمجھیں اور اپنا انفرادی جائزہ لیں کہ آیا یہ برائیاں ہمارے اندر ذاتی طور پر موجود ہیں یا نہیں، اگر نہیں تو یہ فرد کے لیے بھی اور جماعت کے لیے بھی فائدہ مند ہے اور اگر موجود ہیں تو تربیت اور اصلاح کی طرف خاص توجہ دیں. اس کے علاوہ سب سے اہم کام یہ یےکہ سوشل میڈیا پر اسطرح کے کسی بھی قسم کے مباحث میں حصہ نہ لیں اور پرسکون انداز میں تحریکی کاموں میں مصروف رہیں.

اللہ تحریک اسلامی کو ان برائیوں سے مبرا فرمائے اور اس کے مقصد کے حصول میں درپیش مسائل و چیلنجز کا سامنا کرنے کی قوت عطا فرمائے. آمین

محمد فراز احمد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.