دودھ ہے ڈبے کا اور تعلیم ہے سرکار کی

محمد فراز احمد

کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار ملک کے اقتصادی اور تعلیمی معیار سے لگایا جاسکتا ہے. یوں تو ملک کی ترقی میں کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں لیکن اقتصادی نظام اور تعلیمی نظام ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں. لیکن بات ہمارے ملک ہندوستان کی کی جائے تو یہاں کا تعلیمی نظام جو کہ بوسیدہ ہوچکا ہے اور طلبہ کے مستقبل کو تابناک بنانے کے بجائے مزید تاریکی میں ڈھکیل رہا ہے.

ASER (Annual Status of Education report) 2017 کی سروے رپورٹ ہندوستانی تعلیمی نظام کی خستہ حالی اور طلباء کی تعلیم کے تئیں رجحان کو پیش کرتا ہے جو کہ ملک کے باشعور طبقہ کے لئے فکر مندی کا موقع فراہم کرتا ہے.

اسیر ASER کا یہ سروے ملک کے دیہی علاقوں کے تعلیمی معیار کو معلوم کرنے کے لیے 2017 میں تقریباً 24 ریاستوں کے 28 اضلاع میں کیا گیا. رپورٹ کے مطابق 14-18 سال کی عمر کے بچوں کا 86% حصہ ابھی بھی رسمی تعلیمی نظام میں یا تو اسکول یا کالج میں تعلیم حاصل کررہا ہے. اسی عمر کے بچوں کے نصف فیصد نے دسویں یا اس سے کم جماعت میں اپنا نام درج کروایا، 25% نے گیارہویں یا بارہویں اور 6% نے گریجویشن اور انڈر گریجویشن میں اپنا نام اندراج کروایا. اس کے علاوہ 14% نے ابھی تک کسی بھی جماعت میں داخلہ نہیں لیا.

رپورٹ کے مطابق 14-18 سال کی عمر کے بچوں کا ایک چوتھائی حصہ اپنی مادری زبان میں صحیح طور سے گفتگو نہیں کرسکتا. رپورٹ کا یہ حصہ انتہائی شرمناک اور قابل توجہ ہے. جب بچوں کے سامنے ملک کا نقشہ رکھا گیا تو ان میں سے 14% طلباء ملک کے نقشے کی شناخت بھی کرنے سے قاصر ہیں، 36% طلباء کے پاس سے ملک کے صدر مقام کا نام نہیں مل سکا اور 21% طلباء اپنی ریاست کا نام بھی نہیں کہ سکے.

چیف اکنامک اڈوائسر اروند سبرامنیم نے اس رپورٹ کے مشاہدہ کے بعد کہا کہ "یہ حالت انتہائی حیران کن ہے اور غور کرنے پر آمادہ کرتی ہے کہ کیا چل رہا ہے اور کیا ہونا چاہیے تھا”.

یہ رپورٹ روزمرہ کے بنیادی کاموں کو لیتے ہوئے بنائی گئی جس میں رقم کی گنتی، وزن معلوم کرنا اور وقت کا بتانا جیسے کام شامل ہیں. طلباء کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ پیسوں کی صحیح طور سے گنتی کرنے میں ناکام ہے، 44% طلباء کیلو گرام میں وزن بتانے اور 40%طلباء روزمرہ کا بنیادی کام گھنٹوں اور منٹوں میں وقت بتانے سے قاصر ہیں.

اس کے علاوہ کئی اور میدان ہیں جن میں طلباء کی ناقص کارکردگی رپورٹ کی گئی جس کا تفصیلی جائزہ ASER کی ویب سائٹ پر کیا جاسکتا ہے. اس رپورٹ سے حکومت کی تعلیم اور ملک کے مستقبل کے تئیں فکرمندی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت کو صرف ہندو مسلم اور مسجد مندر کی سیاست سے غرض ہے. حکومت کا یہ غیر سنجیدہ طرز عمل ملک کے لئے نقصاندہ ثابت ہورہا ہے. مروجہ تعلیمی نظام اپنے آپ میں ایک ناقص العمل نظام ہے مزید حکومت کا یہ طرز عمل کہ وہ تعلیمی نصاب کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کی کوشش میں ہے جو کہ سوائے نفرت کی ترویج کے اور کچھ نہیں. حکومت کو چاہیے کہ وہ منصفانہ طرز پر معیار تعلیم کو بلند کرنے کے لیے سنجیدگی سے غور کریں اور ملک کے ماہر تعلیمی اداروں کے دانشوروں اور علم دوست احباب کے مشوروں سے نظام تعلیم کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کریں.

(یہ مضمون ماہنامہ رفیق منزل فروری 2018 کے اداریہ میں شائع ہوا ہے)

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.