ناموسِ عورت اور عالمی یوم خواتین

(محمد فراز احمد)

اسلام نے خواتین کو جو مقام عطا کیا ہے اسکی تمثیل کسی مذہب میں نہیں ملتی، عرب کے ریگزاروں کی عریانیت و فحاشی، جہالت و درندگی سے نکال کر جنت جیسی نعمت کو عورت کے قدموں تلے رکھ دیا. نہ صرف یہ بلکہ عورت کو گھر کی برکت کہا ہے، جو گھر کواپنی نمازوں سے مہکاتی ہیں، پُر نور شعاعوں کی طرح ہوتی ہیں جو کسی بھی گھر میں اپنی موجودگی کا اظہار اس روشنی سے کرتی ہے، خواتین کے لئے محض ایک یوم عالمی سطح پر منالینا سراسر ناانصافی ہے، بلکہ اسلام تو ہر دن، ہر پل عورت کی تعظیم اور تکریم کا حکم دیتا ہے. اللہ نے عورت کو جو مقام عطا کیا ہے، میری نظر میں اس کا سب سے بڑا سبب ایک عورت کا صبر ہے، کہ وہ 9 ماہ اپنے پیٹ میں تکلیف پر تکلیف اٹھاتے ہوئے بچہ کی افزائش کرتی ہے، پھر اس بچہ کی پرورش کے لئے راتوں کی نیند قربان کرتی ہے. یہی نہیں بلکہ شادی کے بعد اپنے پیدائشی مکان کو چھوڑ کر نئے گھر میں اپنی زندگی کی شروعات کرتی ہے.

ومنس ڈے کے موقع پر عالمی سطح پر مختلف پروگرامس منعقد ہوتے ہیں اور عورت کی عظمت میں تقاریر ہوتی ہیں، لیکن جب کہیں عورت کے حقوق یا آزادی کی بات آتی ہے تو عورت کو عریاں کرکے بازار میں لاکھڑا کردیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہیکہ عورت آزاد ہے، عورت کی آزادی اسی وقت کہی جاسکتی ہے جب اسکو اپنی عصمت کی حفاظت کا خوف نہ ہو، وہ بلا خوف کہیں بھی جاسکتی ہو، بقول حضرت محمد صلعم کے جس کا خلاصہ ہیکہ ایک وقت ایسا آئیگا جب ایک عورت صنعاء سے حضرالموت تک تنہا سونا اچھالتے ہوئے جائیگی اور اسے اللہ کے سوا کسی اور کا خوف نہیں ہوگا. درحقیقت یہ عورت کی آزادی ہے جو اسلام دیتا ہے. مولانا سید ابوالاعلی مودودی علیہ رحمہ ناموس عورت پر اسلام کا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
” ایک اور اصولی حق جو ہمیں قرآن سے معلوم ھوتا ھے اور حدیث میں بھی اُس کی تفصیلات موجود ہیں ، یہ ھے کہ
عورت کی عصمت ہر حال میں واجب الاحترام ھے ، یعنی جنگ کے اندر دشمنوں کی عورتوں سے بھی اگر سابقہ پیش آ جائے تو کسی مسلمان سپاہی کے لیے جائز نہیں ھے کہ وہ اُن پر ہاتھ ڈالے ۔
قرآن کی رُو سے بدکاری مطلقًا حرام ھے خواہ وہ کسی عورت سے کی جائے ، قطع نظر اس سے کہ وہ عورت مسلمان ہو یا غیر مسلم ، اپنی قوم کی ہو یا غیر قوم کی ، دوست ملک کی ہو یا دشمن ملک کی ۔ ”
( انسان کے بنیادی حقوق )

اسلام کے اس تصور سے جو کہ نہ صرف خیالی ہے بلکہ اس کی مثال دورِ نبوی میں لوگوں نے اپنی سروں کی آنکھوں سے دیکھا ہے اور آج بھی یہ تصور قابل عمل ہے.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.