شخصیت کے ارتقاء میں قرآن کا کردار

شخصیت کہتے ہیں ’’درجہ عزت‘‘ کو اور ’’ارتقاء‘‘ کہتے ہیں نشوونما اور بتدریج ترقی کرنے کو۔ انسان کو اللہ تعالی نے پہلے ہی اشرف المخلوقات بنایا ہے جس کا ثبوت قرآن کی یہ آیت ہے کہ جس میں اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا اس کے باوجود قرآن کثرت سے شخصیت سازی کی بات کرتا ہے جیسے ’’فلاح پاگیا وہ جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کر لیا‘‘۔

نفس کا تزکیہ کے اصل مراد یہی ہے کہ انسانی شخصیت سازی ہو کیونکہ انسان کانفس ہی وہ چیز ہے جو اگر پاک صاف ہو تو ارتقاء کی طرف گامزن ہوتا ہے اور اگر وہیں بغض و عناد اور بداخلاقی موجود ہو تو وہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے یا پھر تنزلی کا لیکن اس میں ارتقاء ممکن نہیں ہے۔

اسلام فرد کی شخصیت سازی کا اصل منبع قرآن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بتاتا ہے اسی سلسلے میں قرآن مجید کی رہنمائی اور اس کی رہنمائی میں تربیت یافتہ گروہ کے تذکرے ضروری ہے جس کی روشنی میں اجتماعی طور پر معاشرے کا اور انفرادی طور پر خود کا جائزہ لیا جانا ناگزیر ہے۔ انسانوں اور جانوروں کے درمیان فرق یہی ہے کہ جانور میں ارتقائی نظام نہیں پایا جاتا اور انسان کے اندر ارتقا کا عمل موجود ہوتا ہے جس کے ذریعے سے انسان ترقی کے مراحل پار کرتا ہے شخصیت کا ارتقاء دو قسم کا ہوتا ہے ایک جسمانی ارتقاء اور دوسرا ہوتا ہے اخلاقی ارتقاء۔

جسمانی ارتقاء سے مراد انسان کا جسم اور اس کی نشوونما اور اخلاقی ارتقاء سے مراد اس کے نفس کی پاکیزگی ہے۔ مولانا صدرالدین اصلاحی رحمتہ اللہ علیہ اسلامی اخلاقی نظام کے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’کسی شخص کی روح کی پاکیزگی یا گندگی کی سب سے عام اور سب سے نمایاں کسوٹی اس کے اخلاق ہوتے ہیں باطن جس طرح کا ہوتا ہے اخلاق بھی ویسے ہی ظہور میں آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ عام طور سے انسان کے اخلاق ہی اس کی انسانیت کے آئینہ دار سمجھے جاتے ہیں۔۔۔۔۔ جہاں تک دین کا تعلق ہے اس کا فیصلہ بھی یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس میں حسن اخلاق کو بڑی زبردست اہمیت دی ہے اتنی کہ ایک پہلو سے گویا وہی حاصل دین ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ سلم کے یہ الفاظ سنیے فرماتے ہیں کہ ’’میں اس لیے بھیجا گیا ہوں تاکہ حسن اخلاق کی تکمیل کردوں‘‘۔۔۔۔’’ نیکی حسنِ خلق کا نام ہے۔ یہ ہے اخلاق کی وہ غیر معمولی اہمیت جس کی بناء پر اس کے بارے میں اسلام نے بڑی تفصیل اور بڑی تاکید سے کام لیا ہے ان وجوہ سے اسلامی نظام کے دوسرے اجزاء سے پہلے اسی جز کا مطالعہ کیا جانا مناسب ہوگا‘‘۔ (اسلام ایک نظر میں ص 144-145)

اسلام جہاں روحانی ارتقاء کی بات کرتا ہے وہیں جسمانی ارتقاء پر بھی زور دیتا ہے جس کی مثال وہ ارشاد مبارکہ ہے جس میں نبیؐ نے قوی مومن کو کمزور مومن پر فوقیت دی اور مختلف مواقعوں پر آپؐ نے صحابہ اکرام کو جسمانی ارتقاء کے لئے مواقع فراہم کئے تاہم جنگوں میں لڑائی سب سے بڑا ثبوت ہے کہ بغیر جسمانی ارتقاء کے عسکری قوت ناکارہ ہے لیکن آج مسلمانوں کا معاملہ یہ ہے کہ نا تو روحانی و اخلاقی ارتقاء پر توجہ ہے اور نہ ہی جسمانی ارتقاء پر جس کا نتیجہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ گائے نام پر زدوکوپ کرنے پر دفاعی قوت کی غیر موجودگی سے جانیں لٹارہے ہیں۔

قرآنِ مجید نے شخصیت کے ارتقاء میں اہم رول ادا کیا ہے ، قرآنِ مجیدانسان کی مکمل زندگی کومخاطب کرتا ہے اور قرآن کا اصل موضوع ’’انسان‘‘ ہی ہے۔ مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں کہ ’’ جیسے جیسے اس کا مطالعہ کرتے جائیں گے انکشافات ہوں گے‘‘۔ قرآنِ مجید اور فردسازی کو جاننا ہو تو نبی کریمؐ کے دور کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ نبی کریمؐ کی پیدائش جس معاشرہ میں ہوئی وہاں کی اخلاقی گراوٹ انتہا درجہ پر تھی، ایک دوسرے کا قتل و غارت گری عام بات تھی ، فحاشی ، عریانیت عروج پر تھی۔ انسانیت کی دھجیاں اڑائی جاتی تھیں لیکن جب آپؐ کو نبوت عطا کوئی اور قران مجید کے نزول کاآغاز ہوا اور لوگوں نے حضرت محمدؐ کے کردار اور قرآنی تعلیمات سے متاثر ہوکر اس دعوت کو قبول کیا ور عمل کرنا شروع کیا تو ، ہم دیکھتے ہیں کہ یہی عرب کی جاہل قوم عزت کے عظیم مرتبے سے سرفراز ہوئی۔ تکریمِ انسانیت کی انتہایہ تھی کہ ایمان لانے سے قبل جو خاندانی دشمن تھے وہ ایمان کی دولت سے سرفراز ہونے کے بعد ایک دوسرے میں شیر و شکر ہوگئے۔ جس مقام کا سفر کیا وہاں اپنے کردار سے لوگوں کے دلوں پر راج کیا۔ یہ ایسے ہی نہیں ہوگا، اس کے پیچھے جو محرکہ تھا وہ یہی تھا جو آج بھی ہمارے پاس موجود ہے اور وہ ہے دنیا میں ربِ کائینات کا آخری پیغام ’’قرآنِ مجید‘‘ جس کو تھام کر عرب کی جاہل قوم نے دنیا میں بھی انسانوں کے دلوں پر حکمرانی کی اور آخرت میں بھی سرخروئی حاصل کی۔

قرآنِ مجید نے صرف عرب قوم کو ہی سرخرو نہیں کیا بلکہ ہر اُس فرد کو کامیاب کی اجس نے اس میں تفقہ کیا اور عمل کا داعیہ پیدا کہا۔ بقولِ علامہ اقبالؒ ’’تقدیرِ اُمم دید پنہاں بہ کتاب اندر‘‘ (میں نے اس کتاب کے اندر امتوں کی تقدیر کو پنہاں دیکھا ہے)۔ مسلمانوں کے پاس قرآنِ مجید کی شکل میں سرچشمہ ہدایت موجود ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس سرچشمہ ہدایت کو آج تک سمجھنے سے قاصر ہیں۔

مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں کہ

’’قرآن تو خیر کا سرچشمہ ہے جتنی اور جیسی خیر تم اس سے مانگو گے یہ تمہیں دے گا ۔ تم اس سے محض جن بھوت بھگانا، کھانسی بخار کا علاج اور مقدمہ کی کامیابی اور نوکری کے حصول اور ایسی ہی چھوٹی ذلیل و بے حقیقت چیزیں مانگتے ہو تو یہی تمہیں ملیں گی۔ اگر دنیا کی بادشاہی اور روئے زمین کی حکومت مانگو تو وہ بھی ملے گی اور اگر عرشِ الٰہی کے قریب پہنچنا چاہوگے تو یہ تمہیں وہاں بھی پہنچادے گا یہ تمہارے اپنے ظرف کی بات ہے کہ سمندر سے پانی کی دوبوندیں مانگتے ہو ورنہ سمندر تو دریا بخشنے کے لئے بھی تیار ہے‘‘۔

موجودہ حالات میں قرآنِ مجید کی روشنی میں شخصیت سازی انتہائی ضروری ہے۔ امتِ مسلمہ کا وجود اور اس کا وزن اسی وقت ممکن ہے جب قرآنِ مجید کو بنیاد بنایا جائے اور اس پر عمارت کھڑی کی جائے ورنہ اگر دوسرے چیزوں کو بنیاد بنایا جائے گا تو موجودہ حالات ہمارے سامنے موجود ہیں ۔ بقولِ علامہ اقبالؒ ’’ وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر اور تم خوار ہوئے تاریکِ قرآن ہوکر‘‘۔

مولانا مودودیؒ اور علامہ اقبالؒکا بنیادی طور پر جو سرمایہ تھا وہ صرف دو ہی چیزیں تھیں ، ایک قرآنِ مجید اور دوسرا عشقِ رسولؐ۔علامہ اقبالؒ کے بارے میں آتا ہے کہ جب آپ قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے تھے تو آپ کے آنسوئوں سے قرآں کے اوران بھیگنے لگتے، گویا قرآن کی حیبت آپ پر طاری ہوجاتی اور یہی وجہ تھی کہ اقبالؒ کی شاعری میں قرآنِ مجید کا عکس نمایاں نظر آتا ہے۔ اقبالؒ کی والدہ محترمہ نے بھی آپ کی تربیت کو قرآن مجید سے جوڑ کر رکھا۔ ایک دفعہ اقبالؒ کی والدہ نے علامہ اقبال کے قرآں کی تلاوت نہ کرنے پر کہا کہ آج تم نے اللہ سے گفتگو نہیں کی لہٰذا ہم بھی تم سے بات نہیں کریں گے۔ یہ کردار سرپرستوں کا بھی تھا کہ انھوں نے اپنے بچوں کی تربیت اس طرز پر کی جس پر آج کے والدین کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا مودویؒ نے کسی مدرسہ سے تربیت حاصل نہیں کی لیکن آج بھی دنیا ان کے علم اور خیالات سے فیض یاب ہورہی ہے ان کی جاری کردہ تحریک کے ساتھ لاکھوں نفوس منسلک ہیں ، صرف وجہ یہی تھی کہ آپ نے قرآن مجید کو اپنی تربیت کی بنیاد بنایا ۔ قرآنِ مجید کے متعلق مولانا مودودیؒ نے مقدمہ تفہیم القرآن میں قرآنِ مجید کے مقام کو جس طرح پیش کیا ہے وہ قابلِ غور ہے ، مولانا فرماتے ہیں کہ:

’’لیکن فہمِ قرآن کی ، اِن ساری تدبیروں کے باوجود آدمی قرآن کی رْوح سے پْوری طرح آشنا نہیں ہونے پاتا جب تک کہ عملاً وہ کام نہ کرے جس کے لیے قرآن آیا ہے۔ یہ محض نظریّات اور خیالات کی کتاب نہیں ہے کہ آپ آرام دہ کْرسی پر بیٹھ کر اسے پڑھیں اور اس کی ساری باتیں سمجھ جائیں۔ یہ دْنیا کے عام تصوّرِ مذہب کے مطابق ایک نِری مذہبی کتاب بھی نہیں ہے کہ مدرسے اور خانقاہ میں اس کے سارے رموز حل کر لیے جائیں۔ جیسا کہ اس مقدمے کے آغاز میں بتایا جا چکا ہے، یہ ایک دعوت اور تحریک کی کتاب ہے۔ اس نے آتے ہی ایک خاموش طبع اور نیک نہاد انسان کو گوشہء عزلت سے نکال کر خدا سے پھِری ہوئی دنیا کے مقابلے میں لاکھڑا کیا۔ باطل کے خلاف اس سے آواز اْٹھوائی اور وقت کے علمبردار ان کفر و فسق و ضلالت سے اس کو لڑا دیا۔ گھر گھر سے ایک ایک سعید رْوح اور پاکیزہ نفس کو کھینچ کھینچ کر لائی اور داعی حق کے جھنڈے تلے ان سب کو اکٹھا کیا۔ گوشے گوشے سے ایک ایک فتنہ جو اور فساد پرور کو بھڑکا کر اْٹھایا اور حامیانِ حق سے ان کی جنگ کروائی۔ ایک فردِ واحد کی پْکار سے اپنا کام شروع کر کے خلافتِ الہٰیہ کے قیام تک پْورے تئیس سال یہی کتاب اس عظیم الشان تحریک کی رہنمائی کرتی رہی، اور حق و باطِل کی اس طویل و جاں گْسل کشمکش کے دَوران میں ایک ایک منزل اور ایک ایک مرحلے پر اسی نے تخریب کے ڈھنگ اور تعمیر کے نقشے بتائے۔ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ سرے سے نزاعِ کفر و دین اور معرکئہ اسلام و جاہلیّت کے میدان میں قدم ہی نہ رکھیں اور اس کشمکش کی کسی منزل سے گزرنے کا آپ کو اتفاق ہی نہ ہوا ہو اور پھر محض قرآن کے الفاظ پڑھ پڑھ کر اس کی ساری حقیقتیں آپ کے سامنے بے نقاب ہو جائیں۔ اسے تو پْوری طرح آپ اْسی وقت سمجھ سکتے ہیں جب اسے لے کر اْٹھیں اور دعوتِ اِلَی اللہ کا کام شروع کریں اور جس جس طرح یہ کتاب ہدایت دیتی جائے اْس طرح قدم اْٹھاتے چلے جائیں۔ تب وہ سارے تجربات آپ کو پیش آئیں گے جو نْز ْولِ قرآن کے وقت پیش آئے تھے۔ مکّے اور حبش اور طائف کی منزلیں بھی آپ دیکھیں گے اور بد و اْحْد سے لے کر حْنَین اور تَبوک تک کے مراحل بھی آپ کے سامنے آئیں گے۔ ابْو جَہل اور ابْو لَہَب سے بھی آپ کو واسطہ پڑے گا، منافقین اور یہْود بھی آپ کو ملیں گے ، اور سابقینِ اوّلین سے لے کر مئولّفتہ القلوب تک سبھی طرح کے انسانی نمونے آپ دیکھ بھی لیں گے اور برت بھی لیں گے۔ یہ ایک اَور ہی قسم کا ’’سْلوک‘‘ ہے ، جس کو میں ’’سْلوکِ قرآنی‘‘کہتا ہوں۔ اِس سْلوک کی شان یہ ہے کہ اس کی جس جس منزل سے آپ گزرتے جائیں گے ، قرآن کی کچھ آیتیں اور سورتیں خود سامنے آکر آپ کو بتاتی چلی جائیں گی کہ وہ اسی منزل میں اْتری تھیں اور یہ ہدایت لے کر آئی تھیں۔ اس وقت یہ تو ممکن ہے کہ لْغت اور نحو اور معانی اور بیان کے کچھ نکات سالک کی نگاہ سے چھْپے رہ جائیں، لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ قرآن اپنی رْوح کو اس کے سامنے بے نقاب کرنے سے بْخل برت جائے۔ پھر اسی کْلّیہ کے مطابق قرآن کے احکام، اس کی اخلاقی تعلیمات، اس کی معاشی اور تمدّنی ہدایات ، اور زندگی کے مختلف پہلو ؤ ں کے بارے میں اس کے بتائے ہوئے اْصْول و قوانین آدمی کی سمجھ میں اْس وقت تک آہی نہیں سکتے جب تک کہ وہ عملاً ان کو برت کر نہ دیکھے۔ نہ وہ فرد اس کتاب کو سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی انفرادی زندگی کو اس کی پیروی سے آزاد رکھا ہو اور نہ وہ قوم اس سے آشنا ہو سکتی ہے جس کے سارے ہی اجتماعی ادارے اس کی بنائی ہوئی روش کے خلاف چل رہے ہوں‘‘۔

اللہ کے نبیؐ نے فرمایا کہ مومن کے دو دن یکساں نہیں ہو سکتے اور قرآنِ مجیدنے بھی مومن اور منافق کے درمیان تفریق کرتے ہوئے دونوں کے اوصاف کی وضاحت کی ہے جس کی روشنی میں ہم اپنا جائزہ لے سکتے ہیں کہ آیا ہم ان اوصافِ حمیدہ سے متصف ہیں یا نہیں جو ہم جو منافقین کی صفوں سے علیحدہ رکھتے ہیں اور جو ان اوصاف کے حصول میں جدوجہد کرتا ہے وہی درحقیقت شخصیت کے ارتقاء کے لئے کوشاں ہے۔شخصیت کا ارتقاء اسی وقت ممکن ہے جب انسان خود ارتقاء چاہتا ہو، کوئی فرد کسی تنظیم یا جماعت سے وابستہ ہو اور اس میں اپنی صلاحیتیں اور وقت صرف کرر ہے ہو لیکن اس کو اس کے وقت کے صرف کرنے سے فرد کی صلاحیتوں میں اضافہ نہیں ہوتا ہے تو یہ سارا وقت اسراف کہلائے گا۔ کیوں کہ جب تک انفرادی طور پر فرد کی صلاحیتوں میں اضافہ نہیں ہوگا اس وقت تک اجتماعی طور پر تنظیم یا جماعت کے معیار اور مقام میں کوئی خاص تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔ مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآنِ مجید کو مضبوطی سے تھامیں ، اس پر تفقہ کریں ، اس کے ذریعہ سے اجتہاد کریں اور سماج میں پھیلی برائیوں کے تدارک کے لئے اس سے روشنی حاصل کریں۔ موجودہ حالات میں جو مسائل پیدا ہورہے ہیں اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت اسلامی قوانین سے ناآشنا ہیں ، علماء کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن مجید کو ہر خاص و عام تک آسان فہم انداز میں پہنچائیں اور عوام کو بھی چاہئے کہ وہ قرآنِ مجید کی روشنی میں اپنی شخصیت کو بنانے کی کوشش کریں۔

قرآن میں ہو غوطہ زن ائے مردِ مسلماں اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار (علامہ اقبالؔ)

(محمدفراز احمد، نظام آباد)

2 تبصرہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.