رمضان کو کیسے موثر بنائیں؟

محمد فراز احمد

اللہ نے مسلمانوں کے اوپر بہت سارے احسانات کیے ہیں اور بہت ساری نعمتوں سے سرفراز کیا ہے، ان میں سے ایک سب سے بڑی نعمت ماہ رمضان المبارک ہے. رمضان المبارک کی اہمیت و افادیت، فیوض و برکار سے سب ہی واقف ہیں نیز اس میں اپنی مغفرت کروانے کے لیے ہر مسلمان کوشش کرتا ہے. بہت ساری روایتیں رمضان سے مغفرت اور نجات کی موجود ہیں یہاں تک ہے کہ رمضان میں جو فرد ایمان اور احتساب کے ساتھ عبادات کرتا ہے گویا وہ ایسا ہے کہ ابھی پیدا ہوا ہو، یعنی گناہوں سے پاک صاف ہوجاتا ہے.

ایسے میں کسی بھی مسلمان کے اندر یہ تڑپ پائی جاتی ہے کہ وہ اس ماہ مبارک کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اسے اپنی نجات کا ذریعہ بنالیں تاکہ ان محرموں کی فہرست میں شمولیت سے بچ جائیں جن کے لئے اللہ کے نبی صلعم اور جبرئیل علیہ السلام نے تباہی کی بدعا فرمائی ہے.

اس مضمون میں رمضان کو مؤثر انداز میں گزارنے کا مختصر خاکہ پیش کیا جارہا ہے اس امید سے کہ یہ قارئین کے لیے مفید ثابت ہوگا.

وقت کی تنظیم :

سب پہلا کام یہ ہے رمضان کے ایام کی منصوبہ بندی کی جائے تاکہ ان قیمتی اوقات کا بہتر سے بہتر استعمال کیا جائے کیونکہ رمضان کا ہر لمحہ قیمتی ہے. اس کے لئے ایک ٹائم ٹیبل والا چارٹ تیار کیا جاسکتا ہے جس میں دن بھر کے کام کو ترتیب دے کر اس کے مطابق عمل کیا جاسکے اس کے علاوہ ایک خود احتسابی چارٹ تیار کیا جائے جس میں ہمارے اندر پائی جانے والی خوبیوں اور خامیوں کو لکھا جائے اور کوشش کی جائے کہ اس ماہ میں کم از کم تین خامیوں کو دور کریں اور تین اچھائیوں کو فروغ دیا جائے، یہ ہر عشرے میں ایک ایک کے تناسب سے کیا جاسکتا ہے.

روزوں کی پابندی:

دوسرا اور سب سے اہم کام یہ ہے کہ روزوں کی مکمل پابندی کریں، روزوں کے چھوڑنے کے متعلق قرآن میں جو احکامات آئے ہیں ان کو ذہن میں رکھیں، یقیناً یہ رمضان سخت گرمی میں ہے، لیکن صبر کے ساتھ ان کو مکمل کریں یقیناً صبر اللہ سے قربت کا بہترین ذریعہ ہے.

نوافل کی پابندی:

رمضان میں تمام ہی مسلمان فرض نمازوں کی پابندی کے متعلق اہتمام کرتے ہیں اور اس کی آئیگی کے لئے تیار رہتے ہیں، لیکن نوافل کی پابندی کا بھی خاص اہتمام اپنے اوپر لازمی کرلیں جیسا کہ اس ماہ میں نوافل کا درجہ بڑھا کر فرض کے برابر کردیا جاتا ہے اس لیے ہر نماز میں نوافل بھی ادا کریں. نوافل کی کے فوائد بے شمار ہیں، ایک حدیث میں یہاں تک ہے کہ جب فرض نمازوں کی کمی ہوگی تو نوافل کی طرف نظر کی جائے گی.

قیام الیل :

نوافل کی خاص کڑی قیام الیل ہے، اس کا خاص اہتمام ضروری ہے، کیونکہ رات کے اوقات اللہ تعالیٰ سے قربت بہت زیادہ ہوتی ہے اور بڑی دلجمعی کے ساتھ اللہ کی عبادت کی جاسکتی ہے،اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر نبی صلعم کو تہجد اور قیام الیل کا حکم دیا ہے، قیام الیل دراصل انسان کی نفسانی خواہشات پر قابو پانے کا سب سے بڑا اور مؤثر ہتھیار ہے. قیام الیل مسلمانوں کو ان پر عائد کردہ اقامت دین کی ذمہ داری کو ادا کرنے لئے تیار کرتا ہے، اس جانب قرآن میں خاص کر سورہ مزمل، مدثر جیسی سورتوں میں خاص توجہ دلائی گئی ہے، مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں کہ قیام الیل درحقیقت اقامت دین کے کام کرنے والوں کی بنیاد ہے، اگر یہ بنیاد نہ رکھی جائے گی تو عمارت گر جائے گی. رمضان کے اس مبارک مہینہ میں قیام اللیل کا خاص اہتمام کریں اور اس کا آیندہ ایام میں بھی اہتمام کریں.

فہم قرآن:

رمضان کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ اس ماہ کی اہمیت اسی لیے ہے کہ اس میں قرآن مجید کو نازل کیا گیا. جس کی وجہ سے رمضان کو اتنی اہمیت ملی ہے اس سے کنارہ کشی بہت نقصاندہ ہوگی، ہمارے یہاں مروجہ طریقہ یہ ہے کہ قرآن کو دو دو، تین تین دفعہ مکمل کیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اس کا حق ادا ہوگیا، اس طریقہ سے "پڑھنے” کی نیکیاں تو مل جائیں گے لیکن قرآن جس بات کا تقاضا کرتا ہے وہ تقاضہ پورا نہیں ہوگا. قرآن کو سمجھنا اور اس پر غور و تدبر کرنا صحیح معنوں میں قرآن کا حق ادا کرنا ہوگا، اس کے لیے انفرادی و اجتماعی طور پر بھی کوششیں ہونی چاہیے، خاص طور سے رات کے اوقات میں قرآن پر غور فکر انسان کے لیے نئی راہیں ہموار کرتی ہے اور انسان کو حکمت و قرب الہی عطا کرتی ہے.

دعاؤں کا اہتمام :

اللہ تعالیٰ اس بندے سے بہت خوش ہوتا ہے جو اس سے سب سے زیادہ مانگتا ہے. رمضان دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے، لہذا ہر وقت اللہ سے دعا کرتے رہیں، خاص کر تہجد اور افطار کے اوقات کو اس کے لیے وقف کردیں.

صدقات و خیرات :

رمضان میں اللہ تعالیٰ ہر عمل کا بدلہ بڑھا چڑھا کر عطا کرتا ہے، اور یہ مہینہ تو غمگساری کا مہینہ ہے، اس لیے رمضان میں غریبوں اور مستحق لوگوں کو تلاش کر کر کے صدقات و خیرات کئیے جائیں، صدقات انسان کے دل کو نرم بناتے ہیں اور مصائب و مشکلات سے دور رکھتے ہیں.

زکوٰۃ :

زکوٰۃ رمضان کی مخصوص عبادات میں سے ایک عبادت ہے، زکوٰۃ کے ضمن میں ہمارے یہاں مروجہ طریقہ یہ ہے ہر کوئی انفرادی طور پر زکوٰۃ ادا کرتا ہے، لیکن اسلامی طریقہء زکوٰۃ اجتماعی ماحول کا متقاضی ہے، انفرادی طور پر ادا کرنے سے زکوٰۃ کی منصفانہ تقسیم ممکن نہیں، یہ موضوع ایک بڑی بحث اپنے اندر رکھتا ہے جس کو کسی اور موقع پر بیان کیا جائے گا، لیکن یہاں جو بات مقصود ہے وہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کے ادائگی میں احتیاط سے کام لیں اور کوشش کریں کے تحقیق کے بعد ہی زکوٰۃ تقسیم کریں تاکہ یہ حقیقی مستحقین تک پہنچے اور اس کا اجر ہم کو حاصل ہوسکے.

اعتکاف کا اہتمام :

اعتکاف انسان کو خدا سے قریب کرنے کی سب سے اہم عبادت ہے، مرد حضرات مسجد میں اور خواتین گھر میں اس کا اہتمام کرتے ہیں. اعتکاف کی حقیقی روح یہ ہے کہ بندہ صرف اور صرف اللہ کا ہوکر رہ جائے. اعتکاف کا ایک اور اہم مقصد یہ ہے کہ اس میں لیلتہ القدر کو تلاش کیا جائے، آخری عشرے کی طاق راتوں میں جاگ کر لیلتہ القدر جیسی عظیم رات کے حصول کے لیے عبادت کی جائے.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.