تحریک اسلامی – ایک تاریخ، ایک داستان

یوں تو تحریک اسلامی کے متعلق بہت ساری تحریریں چیدہ چیدہ پڑھنے کو دستیاب ہوتی ہیں جس کی ذریعہ سے تحریک اسلامی اور بانی تحریک کے سفر کو جاننے کا موقع ملتا ہے، لیکن اس سفر کی ایک مربوط کتاب صرف ایک ہی نظر آتی ہے اور وہ ہے مولانا مودودی کے خطوط، مختلف خطبات و روداد جماعت اسلامی کے اقتباسات، وغیرہ کے مجموعہ پر مبنی کتاب "تحریک اسلامی – ایک تاریخ، ایک داستان” جس کو جناب خورشید احمد صاحب نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان نے مرتب کیا جو کہ ایک انتہائی قیمتی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے. جس کا مطالعہ ہر تحریکی فرد کے لیے ضروری ہے.

جماعت کے لٹریچر کو تو عمومی طور پر پڑھا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے فکری رہنمائی حاصل کی جاتی ہے لیکن یہ کتاب اس تحریکی لٹریچر کا چلتا پھرتا نمونہ ہے جس میں وہ تمام باتیں پڑھنے کو ملیں گی جس کا مقابلہ بانی تحریک نے اپنے دور میں کیا تھا.

یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے، ایک تاسیس جماعت اسلامی سے قبل کا اور دوسرا تاسیس کے بعد کا، اس میں خاص بات یہ بھی ہیکہ پروفیسر خورشید احمد صاحب نے اس کتاب کے مقدمہ میں تصور اقامتِ دین کو بہترین، جامع اور اپنے منفرد انداز تحریر میں پیش کیا، اس کے بعد اصل کتاب شروع ہوتی ہے.

ان دونوں حصوں کا اگر مطالعہ کیا جائے تو لطیف سا فرق محسوس ہوتا ہے وہ یہ کہ جماعت اسلامی کی تاسیس سے قبل کی مولانا کی تحریریں بڑی جذبات سے لبریز، ضمیر کو جھنجھوڑنے والی اور عقل کو اپیل کرنے والی ہیں جن میں مولانا نے اقامت دین کے لیے بتدریج ذہن سازی کی اور ایک سو پچاس افراد پر مشتمل قافلہ کو تیار کیا جس کے بعد 75 افراد کی موجودگی میں جماعت کی تاسیس عمل میں آئی، وہیں دوسرے حصے میں مولانا کی تحریروں میں وہ جذباتیت نہیں پائی جاتی بلکک وہ attitude نظر آتا ہے جو صرف مولانا کو ہی زیب دیتا ہے. دوٹوک انداز میں بات کرنا اور اپنی بات پر مطمئن رہنا یہ بہت کم لوگوں میں پایا جاتا ہے.

مولانا مودودی جب بھی اسلامی قوانین یا اقامتِ دین کے متعلق بات کہتے ہیں تو انکا انداز دوٹوک ہوتا ہے کہ جو اس کو کرے وہ اسی کے لئے بہتر ہے اس کا کوئ احسان نہیں ہے اسلام پر، مولانا کے الفاظ کامفہوم ہے کہ اگر اسلام میں رہنا ہو تو پورے کے پورے اللہ کے تابع ہو کر رہو ورنہ تمہاری اس منافقت کی اللہ کو کوئی ضرورت نہیں.

اس کتاب میں رسالے ترجمان القرآن جس کے بانی مولانا مودودی ہیں اس کے سفر اور اس کے نشیب و فراز کی دلچسپ روداد پڑھنے کو ملے گی. یہ رسالہ مولانا کی مستقل مزاجی، بلند پایہ ہمت و عظیم جدوجہد کا بہترین نمونہ ہے کہ کس طرح مولانا نے تن تنہا انتہائی محدود وسائل کے ساتھ اس رسالے کو زندہ رکھا، نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسی رسالہ سے درحقیقت جماعت اسلامی کے قیام کے لئے ماحول پیدا کیا اور وہ 75 نفوس وہی تھیں جو اس رسالے کے قاری تھے.

اس کتاب کے مطالعے کے دوران کئی مقامات پر آنکھیں نم ہوجاتی ہیں کہ کس طرح بانی تحریک اور صف اول کے افراد نے سخت مشکلات کے ساتھ اتنی منظم اجتماعیت کو قائم کیا اور اس کو نقص سے پاک رکھنے کی ہر ممکنہ کوشش کی.

اس کتاب میں وہ سفر ہم کو نظر آتا ہے جو مولانا نے طے کیا، مولانا کی کتابوں کا موقع و محل بھی معلوم ہوتا ہے جس سے اس سیاق و سباق کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے جس میں وہ کتابیں لکھی گئیں ہیں، ایک الزام یہ بھی مولانا پر لگایا جاتا ہے کہ مولانا نے آزادی کے وقت پاکستان حجرت کی لیکن اس کتاب میں اس کی تردید ہوتی ہے، مولانا آزادی سے کافی عرصہ قبل ہی پاکستان چلے گئے تھے.

یہ کتاب چونکہ پاکستان کے مفکر نے ترتیب دی ہے اسلئے اس میں تقسیم کے بعد کے صرف پاکستان کے واقعات نظر آتے ہیں. الغرض بہت سی باتیں ایسی ہیں جنھیں تحریر میں لانا مشکل ہے لیکن اس کتاب کا مطالعہ جسم و روح میں ایک تحریک ایک ولولہ پیدا کرتا ہے اور اس دور میں واپس لےجاتا ہے جس وقت اس جماعت کی قلیل وسائل کے ساتھ تاسیس کی گئی تھی اور آج وہ بینج ایک مضبوط درخت کی مانند ہوگیا ہے اور لاکھوں لوگوں کے لیے سایہ کا کام کر رہا ہے.

"وہ اس کھیتی کی طرح ہے، جس نے اپنی (باریک سی) سوئی نکالی. پھر اس نے اسے قوی کیا. پھر وہ کھیتی موٹی (اور سر سبر و شاداب) ہوئی. اور اپنے تنے پر مضبوطی سے کھڑی ہوگئی. تاکہ کسانوں کو بھلی لگے (ان کے لئے خوش منظر ہو) اور کافروں کو جلائے (کہ اس کی شادابی ان کی امنگوں کے لئے پیغام موت ہے)” – الفتح 29:48

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.