تبلیغی جماعت کے معاملے میں بامبے ہائی کورٹ کی حکومت کو پھٹکار

لاک ڈاؤن کے آغاز میں مرکزی ہندوتوا فاشسٹ گورنمنٹ نے مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت تبلیغی جماعت کو نشانہ بناتے ہوئے کرونا وائرس کے پھیلانے کا الزام عائد کیا اور کئی غیر ملکی افراد پر کیس درج کرتے ہوئے جیل بھیج دیا.


 تقریباً 29غیرملکی شہریوں پر دہلی کے نظام الدین میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شامل ہوکرٹورسٹ ویزا کے ضابطوں کی مبینہ طور پرخلاف ورزی کرنے کے الزام میں آئی پی سی کے مختلف دفعات، وبائی امراض سے متعلق ایکٹ، مہاراشٹر پولیس ایکٹ،ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ اور غیرملکی قانون کی خلاف ورزی کے تحت الزام درج کیے گئے تھے۔


21 اگست کو بامبے ہائی کورٹ میں ان مقدموں کی سماعت کے دوران معزز جج نے حکومت، میڈیا اداروں اور پولیس کو پھٹکار لگائی اور بڑے ہی جراتمندانہ انداز میں تبلیغی غیر ملکی افراد کی تائید کرتے ہوئے ان کے خلاف درج مقدمات کو ختم کردیا. ملک میں جہاں جمہوریت کے کالے دن چل رہے ہیں اور تمام ادارے حکومت کی مٹھی میں ہیں ایسے میں بمبئی ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ عدلیہ پر بھروسہ کرنے والے کے لیے امید کی ایک کرن ہے. 


واضح رہے کہ یہ وہی بینچ ہے جس نے فروری میں سی اے اے مخالف احتجاج کرنے والوں کے ضمن میں کہا تھا کہ ان افراد کو ملک دشمن یا اینٹی نیشنل نہیں کہا جاسکتا، اس کے علاوہ جولائی میں اسی بنچ نے کہا تھا کہ تبلیغی جماعت کے غیر ملکی افراد نے بہت سزا پائی ہے اب نہیں اپنے وطن واپس کردینا چاہیے. 


دی وائر نے عدالت میں پیش کیے جانے والے گواہوں کے ضمن میں لکھا کہ "تمام عرضی گزاروں پر پولیس کے اس دعوے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا تھا کہ انہیں جانکاری ملی تھی کہ عرضی گزارلاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے الگ الگ علاقوں کے مسجدوں میں رہ رہے تھے اور نماز ادا کر رہے تھے۔


مسلم فریق کےمطابق، وہ حکومت ہند کی جانب سے دئیے گئے قانونی ویزاپر ہندوستان آئے تھے۔ وہ ہندوستانی تہذیب، روایت، خدمت اور کھانے کا تجربہ لینے کے لیے آئے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کے ہوائی اڈے پر پہنچنے پر ان کی اسکریننگ کی گئی اور کووڈ 19 کا ٹیسٹ کیا گیا۔ ان کے کووڈ نگیٹو پائے جانے کے بعد ہی انہیں ہوائی اڈہ چھوڑنے کی اجازت ملی۔اس کے علاوہ انہوں نے احمد نگر ضلع میں پہنچنے پرضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ کو مطلع کیا تھا۔ 23 مارچ کو لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے بعد گاڑیوں کی آمدورفت رک گئی، ہوٹل اور لاج بند ہو گئے اور اسی وجہ سےمسجد نے انہیں پناہ دی۔


مسلم فریقین نے کہا کہ انہوں نے نہ تو ضلع مجسٹریٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی اور نہ ہی کسی غیرقانونی سرگرمی میں شامل ہوئے۔عرضی گزاروں نے کہا کہ یہاں تک کہ انہوں نے مرکز کے ساتھ دیگر مقامات پر بھی جسمانی دوری کے ضابطوں پر عمل کیا۔


وہیں، دوسری طرف مسلم فریقین کے حلف نامے کے جواب میں احمد نگر ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ عرضی گزار ان جگہوں پر اسلام کی تبلیغ کرنے کے لیے گئے تھے اس لیے ان کے خلاف جرم کا معاملہ درج کیا گیا۔


اس پر جسٹس نلوڑے نے کہا کہ ریکارڈ پر موجود دستاویزوں کے مطابق غیرملکی شہریوں کے مذہبی مقامات میں جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے.
 جسٹس نلوڑے نے کہا،‘ریکارڈ پر موجود دستاویز دکھاتے ہیں کہ تبلیغی جماعت مسلمانوں کا کوئی الگ طبقہ نہیں ہے بلکہ یہ صرف مذہب کی اصلاح کی تحریک ہے۔ اصلاح کی وجہ سےہر مذہب کاسالوں میں فروغ ہوا ہے، کیونکہ سماج میں تبدیلی کی وجہ سےاصلاح ہمیشہ ضروری ہوتی ہے۔’


انہوں نے کہا، ‘یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے کہ دوسرے مذہب کے افراد کو اسلام میں لانے کے لیے غیرملکی شہری اسلام کی تبلیغ کر رہے تھے۔’انہوں نے کہا، ‘الزام بہت غیر واضح ہیں اور ان الزامات سے اس میں کسی بھی سطح پر دخل دیناممکن نہیں ہے کہ وہ اسلام پھیلا رہے تھے اور ان کا ارادہ مذہب تبدیل کرانے کا تھا. 


کورٹ نے میڈیا پر بھی پھٹکار لگائی اور ان کے مسلم مخالف رویہ پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ، ‘دہلی میں مرکز میں شامل ہونے آئے غیرملکی شہریوں کے خلاف پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا میں بہت پروپیگنڈہ چلایا گیا اور ایسی تصویر بنانے کی کوشش کی گئی کہ یہی لوگ ہندوستان میں کووڈ 19 پھیلانے کے ذمہ دار تھے. وبا یا آفت کے دوران ایک سیاسی حکومت قربانی کا بکرا تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے اور حالات بتاتے ہیں کہ اس بات کا امکان ہے کہ ان غیرملکی شہریوں کو قربانی کا بکرا بنانے کے لیے چنا گیا تھا. 


بمبئی ہائی کورٹ نے میڈیا اور حکومت و بی جے پی بھکتوں کو بتایا کہ ہندوستان ایک مہمان نواز ملک ہے اور یہاں مہمانوں کو بھگوان مانا جاتا ہے، ایسے میں ان برے دنوں میں انکی مدد کے بجائے ہندوستانیوں نے انھیں جیل بھجوا دیا، اس پر ان کے ساتھ مثبت رویہ اختیار کرتے ہوئے انکے نقصان کی بھرپائی کی بات کہی. 


اس ساری سنوائی میں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ کورٹ نے اس بات کا ذکر کیا کہ "ہندوستانی مسلمانوں نے سی اے اے، این آر سی پر بڑے پیمانے پر احتجاج کیا، جس کے بعد سے حکومت ان سے بغض کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، ہندوستانی مسلمان اب یہ سمجھتے ہیں اور اس خوف میں ہیں کہ ان کے ساتھ حکومت کبھی بھی کچھ بھی کرسکتی ہے”… یہ الفاظ ایک معزز جج کے ہیں جس نے سنوائی کے دوران مسلمانوں کے ڈر کو دنیا کے سامنے واضع کیا. 


عدلیہ کا یہ فیصلہ انصاف پسند ہندوؤں اور متعصب میڈیا کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیکہ حکومت مسلمانوں کو انکے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنارہی ہے، اس فیصلے کے بعد تبلیغی جماعت اور مسلم قائدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان میڈیا ہاؤزس کے خلاف ہر علاقے میں مقدمات درج کرائیں اور ان کی شرمناک حرکت پر قانونی کٹہرے میں کھڑا کریں. 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.